تازہ ترین۔ ملک میں احتجاج کا موسم جاری ، لاہور میں لیسکو ملازمین بھی سڑکوں پر نکل آئے اور ایک ماہ میں نو ملازمین کی کرنٹ لگنے سے ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج کیا کھمبوں پر بجلی بند کروائے بغیر کام کرنے سے ایک ماہ میں نو ہلاکتیں ،،،، لیسکو ملازمین کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہو گیا ملازمین اکٹھے ہوئے اور لیسکو آفس کا گھیراو کر لیا آئندہ بجلی بند کروائے بغیر کھمبوں پر کام کرنے سے انکار کر دیا جنرل سیکرٹری سی بی اے خورشید احمد کی قیادت میں ملازمین نے مطالبات کی فہرست بھی پیش کر دی جن میں جاں بحق ہونے والے ملازمین کی مالی امداد بڑھانے ، دوران ڈیوٹی جاں بحق ہونے والے ملازمین کے بچوں کو ملازمت دینے ، خالی آسامیوں کو پر کرنے سمیت کئ مطالبات شامل تھے . لیسکو آفس کے باہر ملازمین کے شدید احتجاج کو دیکھتے ہوئے لیسکو چیف راؤ ضمیر بھی خطاب کے لیے پہنچ گئے بولے پہلے ہی احکامات جاری کر دیے ہیں آئندہ بجلی بند ہوئے بغیر کوئی ورکر کھمبے پر کام نہیں کرے گا اور جاں بحق ہونے والوں کو معاوضہ بھی پانچ لاکھ سے بڑھا کر پچیس لاکھ روپے کرنے کی منظوری ہو چکی. لیسکو چیف نے تو مطالبات کی منظوری کی خبر سنا دی لیکن مظاہرین کا کہنا ہے پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے معاوضہ تو کب کا ہو چکا لیکن اس پر عملدرآمد کب شروع ہوگا اور پرمٹ ٹو ورک کے بغیر کھمبوں پر چڑھنے پر مجبور کرنے والے افسران کو کون روکے گا..
Muhammad Tayyab
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment